Link

پاکستان کے بعض اخبارات اور انہی اخبارات کے تحت قائم ٹی وی چینلز کے حوالے سے بہت سی باتیں زبان زدعام ہیں ........
مثلاً بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ .........

اخبارات میں شایع اور نیوز چینلز پر نشر ہونے والی خبریں خفیہ ایجنسیز کی فراہم کردہ ہوتی ہیں ، اخبار و ٹی وی کے ذریعے کسی فرد یا پارٹی کا محاسبہ کیا جاتا ہے تو اس کے پس پردہ جذبہء حب الوطنی یا عوامی فلاح و بہبود کے جذبات کارفرما نہیں ہوتے بلکہ مخالف فرد یا پارٹی سے اس کا پورا پورا معاوضہ وصول کیا جاتا ہے ، اسی طرح کسی کی امیج بلڈنگ Image Building بھی مفت میں نہیں کی جاتی ، کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ شایع یا ٹیلی کاسٹ کی جانے والی خبریں یا رپورٹس اتنی نفع بخش نہیں ہوتیں جس قدر کہ ایسی خبریں اور رپورٹس جو شایع یا ٹیلی کاسٹ نہیں کی جاتیں............ وغیرہ ، وغیرہ

ہمیں نہیں معلوم کہ زبان خلق پر گردش کرنے والی یہ اور ایسی بہت سی باتوں میں کس قدر صداقت ہے اور نہ ہم نے اس حوالے سے کسی قسم کی تصدیق کرنے کی کوشش کی ............ ہاں یہ بات ضرورہمارے دل کو لگتی ہے کہ وہ ادارے جو اشتہارات کا معاوضہ فی لفظ یا فی سطر اور ٹی وی چینلز پر فی سیکنڈ کے حساب سے وصول کرتے ہوں ، وہ بغیر کسی مفاد و مطلب کے محض قومی جذبے کے تحت ایسے کام کیونکر کرسکتے ہیں ؟؟؟.........

یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ ملکی ٹی وی چینلز جو چلتی خبروں کے درمیان ہمیں اشتہارات دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں ، انہی چینلز پر اگر کبھی کوئی تفریحی پروگرام چل رہا ہو تو اشتہارات کا وقفہ اتنا طویل ہوجاتا ہے کہ یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ وقفے سے قبل کیا دکھایا جارہا تھا ....... وہی چینلز کس طرح وکلاء کی ریلیوں کی لائف کوریج پیش کرتے ہیں .......... ؟؟؟؟؟

ایک اندازے کے مطابق گھنٹے بھر کی براہ راست بیرونی نشریات پر ہی خطیر اخراجات اٹھتے ہیں ، پھر آٹھ دس گھنٹوں پر مشتمل ایسی کوریج کے لیے سرمایہ کہاں سے آتا ہے ............ ؟؟؟؟

صرف اشتہارات کی مد میں لاکھوں بلکہ ایک اطلاع کے مطابق کروڑوں وصول کرنے کے باوجود اخبارات کی قیمت میں کمی پر آمادہ نہیں ....... چھوٹے اخبارات تو سرکولیشن کم ہونے کا بہانہ کرکے اشتہارات کے حوالے سے کسی اخلاقی ضابطے کا خیال نہیں کرتے لیکن بڑے اخبارات کو دیکھ کر کیا ایسا نہیں لگتا کہ ان کے مالکان نے بھی کسی ضابطہء اخلاق کا تعین نہیں کیا ہے ؟؟؟ ....... بنگال کے جادوگروں ، عامل کامل ، استخارہ بابائوں کے علاوہ سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے والے دھوکے بازوں ، پراپرٹی کی فراڈ اسکیموں، ایسے تعلیمی ادارے جن کا محض کاغذی وجود ہو ، کے اشتہارات بعض بڑے اخبارات کے صفحات پر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ، سادہ لوح یا بیوقوف لوگ ایسے اشتہارات کے غچے میں آکر فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ جائیں تو ان اخبارات کے مالکان کو کوئی پروا نہیں ، انہوں نے تو اپنے دام کھرے کر لیے ......

اکثر بڑے اخبارات کو اشتہارات سے ہی اتنی آمدنی ہوجاتی ہے کہ اگر وہ اخبارات فری کردیں تو گھاٹے میں نہ رہیں لیکن ان کی ہوس کا ٹھکانہ نہیں ،ان میں سے اکثر تو یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اشتہارات کی زیادتی سے قاری کو دیا جانے والا ان کا مواد Matter دن بہ دن کم سے کم ہوتا جارہا ہے ۔

جہاں ہمارے معاشرے میں مطالعے کی کمی کے رجحان کے فروغ میں دوسرے بہت سے عوامل اثرانداز ہوئے ہیں وہاں خصوصاً بڑے اخبارات میں دلچسپ اور پڑھے جانے کے قابل مواد Matter کا فقدان بھی ایک اہم وجہ ہے ۔

جب سے اردو ویب سائٹس GIF فارمیٹ سے یونی کوڈ فارمیٹ پر منتقل ہوئی ہیں تو اردو اخبارات کا کام اور بھی آسان ہوگیا ہے ، چھوٹے اخبارات کو تو چھوڑیے اب تو بڑے اخبارات بھی بعض خبریں ، تبصرے ، کالمز اور تصاویر ویب سائٹ کا حوالہ دیے بغیر شایع کردیتے ہیں ، بعض تو اتنی زحمت بھی نہیں کرتے کہ خبروں یا کالمز کی سرخیاں ہی تبدیل کردیں ........ یونی کوڈ فارمیٹ کی وجہ سے اب تو بعض اردو اخبارات کے لیے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہورہی ہے ، یونی کوڈ میٹر سیلیکٹ کرکے کنورٹر کے ذریعے اردو سافٹ ویئر میں پیسٹ کرکے اپنے پیج سیٹ اپ کے مطابق پرنٹ لے لیا جاتاہے ، ہمارا مشاہدہ ہے کہ بعض اخبارات میں تو ویب سائٹس سے کٹ پیسٹ کی جانے والی خبروں اور تبصروں کی پروف ریڈنگ بھی نہیں کی جاتی اور ان میں بھی پروف کی وہی غلطیاں موجود ہوتی ہیں جو ایک روز قبل ہم ویب سائٹ پر دیکھ چکے ہوتے ہیں ۔یعنی .....
'' دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں ''
یا
'' ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا ''

یہی صورتحال ملکی ٹی وی چینلز کی بھی ہے کہ بے تحاشہ اشتہارات کی مد میںسیکنڈ کے حساب سے لاکھوں وصول کرنے والے اپنے ناظرین کے لیے تفریح وطبع پر مبنی اور دلچسپ معلوماتی پروگرام پیش کرنے کے بجائے اکثر تو انڈین ٹی وی چینلز کے پروگرام ، انڈین فلمیں اور انڈین ایوارڈز کی تقریبات دکھاتے ہیں ...........

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانکس میڈیا کے بعض اداروں میں بالائی سطح پر ہی نہیں بلکہ ملازمین اور لکھنے والوں کی سطح پر بھی کچھ لوگ کرپشن میں ملوث ہیں۔ بعض حلقوں میں چند کالم نگاروں کا نام تو اس قدر بدنام ہے کہ اگر وہ واقعی خلوص نیت سے اور جذبہء حب الوطنی کے تحت بھی کچھ لکھیں تو لوگ شک کی نظر سے دیکھیں گے۔ ہمارے ایک دوست کا تو یہ کہنا ہے کہ ان بدنام زمانہ کالم نگاروں میں سے کسی ایک کے کالم کا چند روز ناقدانہ انداز سے مطالعہ کیا جائے تو آپ چند ہفتوں میں ہی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ موصوف ناصرف اس اخبار سے چھ ہندسوں میں نہایت معقول مشاہرہ وصول کر رہے ہیں بلکہ اپنے بعض کالم میں انتہائی غیر محسوس انداز میں '' کسی اور '' کا ''حق نمک '' بھی ادا کررہے ہیں ۔

اس قسم کی صورتحال الیکٹرانک میڈیا پر بھی محسوس ہوتی ہے ، لاکھوں روپے وصول کرنے والے بعض اینکر پرسن اور مبصرین ملک کے بنیادی مسائل سے اپنے ناظرین کی توجہ ہٹا کر اکثر مفروضات اور قیاس آرائیوں کے ذریعے ہیجان یا جمود پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔

گو کہ ٹی وی چینلز کا ہمارے ملک میں بھی جمعہ بازار لگا ہوا ہے ، لیکن اکثریت نیوز چینلز کی ہے ......... اور پھر ہمارے ہاں اکثر جغادریوں کا خیال تو شاید یہی ہوگا کہ تفریحی اورمعلوماتی پروگرامز کی ضرورت ہی کیا ہے، لہٰذا جو تفریحی چینلز غلطی سے کھل گئے ہیں ان کو بھی بند کردیاجائے........... ملکی چینلز کے مالکان متحد ہوکر بھارتی چینلز کو بند کرنے کے لیے کوششوں میں لگے رہتے ہیں، اس کے لیے وہ مذہبی اجارہ داروںکا سہارا بھی لیتے ہیں ، جن کے خیال میں تو عوام کے لیے تفریح کی اجازت ہی نہیں ہے ، ہاںاگر کوئی جاگیردار ، سردار ، چوہدری ،وڈیرا ، سیٹھ ، ساہوکار ، ذخیرہ اندوز ، کرپٹ بیوروکریٹ یا دھوکے باز سیاستدان عوام کے حقوق تلف کرکے انہیں اپنی تفریح وطبع کا ذریعہ بنا لے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں........ ان مذہبی اجارہ داروں کے عقائد کے مطابق محض خواتین کے سر پر ڈوپٹہ نہ اوڑھنے سے بے حیائی و فحاشی پھیلتی ہے ، انہیں یہ نہیں معلوم کہ بے حیائی و فحاشی کی جڑ ''مفلسی '' ہے ، شاید وہ یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ غربت اور مفلسی کے ساتھ ساتھ کسی معاشرے میں ناانصافی کا چلن عام ہوجائے تو وہ معاشرہ حیوانیت کی سطح سے بھی نیچے گر جاتا ہے ............

تفریحی پروگرام کی کمی کی ایک وجہ شاید یہ خدشہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ان کی زیادتی ہوگئی پھر بعض نیوز چینلز پر پیش کیے جانے والے مضحکہ خیز سیاسی تبصروں اور ہیجان انگیز بریکنگ نیوز سے قوم محروم ہو جائے گی ...........

ادھر پڑوسی ملک بھارت کے درجنوں ٹی وی چینلز پر ٹیلنٹ ہنٹ قسم کے پروگراموں نے ناصرف بھارتی نوجوانوں میں زبردست جوش خروش پیدا کردیا ہے اور باصلاحیت نوجوانوں کو ملکی سطح پر ہی نہیں دنیا بھر میں متعارف کرایا جارہا ہے، بلکہ کئی چینلز پر تو پاکستانی نوجوانوں کو بھی مواقع فراہم کیے گئے ، انہوں نے انڈیا جاکر اپنے جوہر دکھلائے اور ملک کا نام روشن کیا ، حالانکہ انہیں ملکی ٹی وی چینلز نے ''گھاس ''تک نہ ڈالی تھی۔

بعض ٹی وی چینلز نے انڈین ٹی وی چینلز کی نقل میں ٹیلنٹ ہنٹ کے کچھ پروگرامز پیش کیے بھی تھے ، شاید انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ............ چنانچہ غیر معیاری اور نہایت بھونڈے انداز میں پیش کیے جانے والے ان پروگرامز کو دوچار فیصد بھی ناظرین میسر نہیں آسکے ..........انڈین چینلز کے اکثر پروگرامز بھی امریکی ٹی وی چینلز کی کاپی ہوتے ہیں ، لیکن وہ لوگ اس قدر محنت کرتے ہیں کہ خود ان کے کئی پروگرامز امریکی پروگرامز سے بازی لے جاچکے ہیں ، دوسرے ہمارے ہاں '' پرچی کلچر '' کی وجہ سے باصلاحیت نوجوانوں کو کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا ......... ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ اگر امریکن آئیڈیل اور انڈین آئیڈیل کی طرز پر پاکستان آئیڈیل شروع کیا گیا تو پرچیوں کی لائن لگ جائے گی اور بھاری پرچی ہونے کی وجہ سے شاید کسی ایسی گلوکارہ کو پاکستان آئیڈیل چن لیا جائے جس کی آواز مردانہ ہو اور وہ روزانہ شیو بناتی ہو، صرف اس بنا پر کہ وہ کسی منسٹر کی پسندیدہ آواز ہو ..............

علاوہ ازیں بعض ٹی وی چینلز کی وجہ سے جدید مذہبی اجارہ داروں کو فرسودہ اور فرقہ وارانہ ظاہر پرستی اور روایات پسندی کے فروغ کا خوب موقع ملا ہے اوراکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے معاشرے میں دیگر بہت سی جہالتوں اور خرابات کے ہمراہ اس طرز کی ''جہالت '' بھی '' آن لائن '' ہوگئی ہے، اس نوعیت کے پروگرامز میں کیے جانے والے اکثر سوالات کی نوعیت ''مچھر کا خون اگر کپڑے پر لگ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟؟؟؟؟''............ سے ملتی جلتی ہی ہوتی ہے ۔

کس قدر شرم اور افسوس کا مقام ہے کہ آج جہاں وطن عزیز میں ارباب اختیار کے ظالمانہ اقدامات اور اشرافیہ طبقے کی بڑھتی ہوئی ہوس نے کتنے لوگوں کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے اور گزشتہ چند مہینوں کے دوران مہنگائی نے جو تباہی پھیلائی ہے ، اس کے اثرات سے کیسے کیسے بھیانک نتائج مرتب ہوں گے ؟؟؟؟؟ ....... ان سب باتوں سے بے نیاز نرالی سج دھج کے ساتھ ٹی وی پر جلوہ افروز ہونے والے جدید اور ماڈرن مذہبی اجارہ داروں کی گفتگو مذکورہ سوال کی سطح سے بلند نہیں ہوپاتی، اور وہ گڑگڑا گڑگڑا کر رونے کی عجیب و غریب اداکاری کرتے ہوئے دعائیں مانگ کر اپنے ہم ذہن بے عمل ناظرین کو مزید بے عملی کے راستے پر دھکیل دیتے ہیں ........... ان کی دعائیں بھی کسی دور افتادہ دیہات کی سنکی اور بوڑھی عورت کے کوسنوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں ......... ایسی سنکی بوڑھی عورتوں کے کوسنے اپنی پڑوسن ، ساس ، نند یا سوکن کے لیے ہوتے ہیں جبکہ ان مذہبی ماڈل بوائز کی کوسنے نما دعائوں کا ہدف کافر ، یہودی ، اور ہندو بنتے ہیں........... بعض مرتبہ ان کی دعائوں کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ نعوذباللہ اللہ رب العزت کو حکم دے رہے ہوں ................

یااللہ ایسا ایسا کردے .........
کشمیر ہمارا ہے ہمیںواپس مل جائے .........
فلسطین آزاد ہوجائے ..........
دہلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرادے .......
تو اب دیر نہ کر .........
وغیرہ وغیرہ

کل ایسے ہی ایک پروگرام میں سجے سنورے '' مذہبی ماڈل بوائے '' جو اپنی گفتگو میں نہایت نپے تلے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، نے علمائے دین شرع متین سے صدر (تادم تحریر) پرویز مشرف کے مواخذے کے بارے میں دریافت کیا ............ جواب میں تمامی جید علمائے کرام نے مواخذے کی ناصرف تائید فرمائی بلکہ اسے شریعت مطہرہ کے عین مطابق قرار دیا .............

یہاں اس پروگرام کا حوالہ دینے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم خدانخواستہ مشرف کو بیگناہ ثابت کرنا چاہتے ہیں .......... لیکن ہم یہ سوال کرنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ کیا تمام خرابیوں کے ذمہ دار اکیلے پرویز مشرف ہیں ..............؟؟؟؟؟؟؟

کیا ان کی حکومت میںوزیروں مشیروں کی فوج شامل نہیں رہی اور خود ''فوج '' نے بھی ان کا بھرپور ساتھ نہیں دیا............ سب ہی نے خوب بٹورا ، خوب سمیٹا ...........

اور کیامواخذے کی تحریک پیش کرنے والے سب کے سب پیدائشی معصوم ہیں.......... ؟؟؟؟؟؟؟؟

کیا کسی کو یاد نہیں کہ ان دونوں فریقین نے جو آج شریک حکومت ہیں ، اپنے اپنے دونوں ادوار میں کیا کیا گل کھلائے تھے ، کتنے کانٹے بوئے اور بکھیرے تھے .......... ؟؟؟؟؟؟؟؟

زنا کے الزام سنگسار کی جانے والی عورت کو پتھر مارنے کے لیے بے قرار ہجوم کو دیکھ کرحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تھا :
'' پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو '' ۔

کیا مشرف کے مواخذے کافتویٰ دینے والے مذہبی رہنما خود کو بھی مواخذے کے لیے پیش کرنے کی ہمت رکھتے ہیں .........؟؟

ان میں سے اکثر نے تو اپنے لیے نہایت لگژری لائف حاصل کر رکھی ہے ، جبکہ اپنے پیروکاروں کو فرقہ وارانہ انتہاپسندی پر اکساتے ہیں ، صبر کانام دے کر جمود کوفروغ دیتے ہیں ، عوام کے معاملات سے لاتعلقی کا عالم یہ ہے کہ انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذرابھی احساس نہیں ، اس لیے کہ انہیں تو عزت دولت شہرت سب ہی کچھ مذہب کے نام پر میسر ہے ۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص یہ جاننے کے باوجود کہ کسی آدمی کے پاس چوری کا مال ہے ، اس سے کچھ مال کسی غرض سے لے تو وہ بھی اس چوری میں شریک ہے ۔ سب جانتے ہیںکہ ہماری مسجدیں اور مدرسے چندوںسے چلتی ہیں .......... غریبوں کے چندوں سے نہیں !!......... اس لیے کہ وہ تو زیادہ سے زیادہ 100روپے مہینہ ہی دے سکتے ہیں بلکہ ان ساہوکاروں کی خیرات ، صدقات اور زکوٰةسے جو اپنے صارفین کو گھٹیا مال دے کر معیاری مال کے پیسے لیتے ہیں ، اپنے ملازمین کو ان کی محنت کا جائز اجر نہیں دیتے ، جھوٹے کاغذات بنواکر لاکھوں کا ٹیکس بچاتے ہیں ، ان میں سے بیشتر غذائی اشیاء میں ملاوٹ کے ذریعے قوم کو زہر دے رہے ہیں ، غبن ، کرپشن اور ذخیرہ اندوزی کرکے لاکھوں ، کروڑوں اور اربوں روپے کماتے ہیںپھر اس میں سے ڈھائی فیصد زکوٰة کے نام پر بھاری رقم ایسے مذہبی اجارہ داروں کے حوالے کردیتے ہیں ، جو ترازو ہاتھ میں لے کرغریبوں کے ایمان کو تولتے اور ان کی جنت دوزخ کافیصلہ کرتے پھرتے ہیں ، جبکہ معاشرہ جہنم کا نمونہ بن چکا ہے اور اسے اس حال تک پہنچانے میںمذہبی طبقے کا بھی بڑا ہاتھ ہے اس لیے کہ ان لوگوںنے عام لوگوں کے ذہنون میں سماجی بیداری کے تمام راستوں کو بند کرنے کے سلسلے میںمراعات یافتہ طبقے کی ہر ممکن مدد کی ہے۔